تو جو مل جائے
تو جو مل جائے از انا الیاس قسط نمبر15
رات ميں وہيبہ نے کچھ کا انتظام اس کمرے ميں کيا جہاں وہ پچھلے کافی دنوں سے رہ رہی تھی اور کچھ کا انتظام ڈرائينگ روم ميں ميٹرس بچھا کر کر ديا۔ خبيب واپسی پر آتا ہوا اپنے ايک دوست سے کچھ دنوں کے لئيۓ کمبل اور لحاف لے آيا تھا۔ کيونکہ ان دونوں کے استعمال کے لئيۓ تو دو کمبل اور دو لحاف بہت تھے۔ خبيب اور وہيبہ نے سب کی جگہ ارينج کروا دی تھی۔ وہ لوگ دن بھر کے تھکے ہوۓ تھے لہذا سب نے جلدی سونے کا پروگرام بنايا۔ آخر ميں خبيب اور وہيبہ بھی خبيب کے کمرے ميں آگۓ۔ گيسٹ روم ميں گزرنے والی رات کے بعد آج دونوں پھر سے ايک ہی کمرے ميں سو رہے تھے۔ خبيب کا بيڈ يہاں بھی جہازی سائز تھا اسی لئيۓ وہيبہ کو کوئ ٹينشن نہيں تھی۔ نماز پڑھ کر وہ کوئ ڈائجسٹ لے کر بيٹھی پڑھ رہی تھی اور خبيب ليپ ٹاپ پر آفس کا کام کر رہاتھا۔ يکدم اس کا دھيان اس گانے کی جانب گيا جو خبيب نے تيسری مرتبہ پلے کيا تھا۔ اس نے دھيان سے اسکی شاعری سنی کہ آخر کيا ہے اس گانے ميں جو وہ تيسری مرتبہ سن رہا ہے۔ I can reason it away But I'll only miss the heart of it Oh, the pain It's all the same So far I can never live without you, now You were the only one Who could ever make the pieces fit the same I could never live without you, now You were the only one Who could fix it when it hurts Fix it when it hurts Show me all the feelings that call your breakdown Tell me all the reasons you cry Show me all the demons that tore us open Tore it, you tore it all And you tore it, your tore it all And you tore it, your tore it "نام کيا ہے اس کا" وہيبہ نے گانا سننے کے بعد اچانک پوچھا۔ خبيب جو بری طرح کام ميں ڈوبا ہوا تھا مگر وہيبہ کی موجودگی سے پوری طرح باخبر تھا۔ گانا بھی تين مرتبہ اسی لئيۓ لگايا کہ شايد ميڈم کچھ متوجہ ہوں اور بالاخر وہ متوجہ ہو ہی گئی تھی۔ "کس کا" اس نے اچھنبے سے پوچھا۔ "آپکی ہونے والی ان کا" اس نے بھی معنی خيزی سے پوچھا۔ "اوہ" وہ يکدم آنکھيں بند کرکے کھولتا اسکی بات پر سر کو خفيف سی جنبش دے کر مسکرايا۔ "بس ہے بہت پيارا سا نام" اس نے سامنے ديکھتے اسطرح سے کہا جيسے وہ لڑکی سامنے ہی کھڑی ہو۔ وہيبہ کو عجيب سی بے چينی ہوئ۔ "تو اسے زندگی ميں شامل کرنے کا کب ارادہ ہے" اس نے لہجے کو سرسری ہی رکھا۔ "وہ تو کب کا کر بھی ليا" خبيب نے اس کی جانب ديکھتے اسے نظروں کے فوکس ميں رکھا۔ وہيبہ نے گھبرا کر نظريں اس پر سے ہٹائيں۔ "اوہ ايز اے گرل فرينڈ" اس نے سمحھتے ہوۓ کہا۔ "نہيں ميں ايسے دو نمبر رشتوں کو کوئ اہميت نہيں ديتا" اس کی نظريں مسکرائيں۔ "تو پھر۔۔۔۔شادی کر چکے ہيں کيا بيوی ہے وہ آپکی" کچھ سمجھتے وہ حيرت سے اسے ديکھتے مڑی۔ "ہاں شادی تو کرلی ہے مگر بيوی نہيں منکوحہ ہے ميری" خبيب نے تصحيح کی۔ وہيبہ سے اپنے تاثرات چھپانے مشکل ہوگۓ۔ يکدم چہرہ جيسے اتر گیا۔ "نکاح کر ليا ہے" اسے لگا اسکی آواز گہری کھائ سے آئ ہو۔ "اف کس بے وقوف سے محبت کر بيٹھا ہوں" خبيب نے دل ميں اسکی عقل پر ماتم کيا۔ اتنی سی بات اسے سمجھ نہيں آئ تھی کہ اس سے بھی تو وہ شادی کرچکا ہے اور وہ بھی اسکی منکوحہ ہے۔ مگر وہيبہ کا دکھی انداز ديکھ کر يہ تو تسلی ہوئ تھی کہ وہ بھی اسکے لئيۓ دل ميں جذبات رکھتی ہے مگر ماننے سے انکاری ہے۔ "ہاں کب کا" اس نے بھی جان بوجھ کر اسے اور تنگ کيا۔ "تو ڈسکلوز کيوں نہيں کر رہے" سيدھے ہوتے ہوۓ وہ پھر سے ٹوٹے ہوۓ لہجے ميں بولی۔ خبيب کا دل کيا بھنگڑا ڈالے يہ احساس ہی بہت دلکش تھا کہ وہ بھی اسکو سوچنے لگی ہے۔ "کر دوں گا پہلے ہمارے رشتے کو تو کسی پار لگا دوں" خبيب نے پھر سے سنجيدہ لہجے ميں کہا۔حالانکہ دل اسے تنگ کرنے پر آمادہ نہيں تھا مگر وہ جان بوجھ کر ابھی وہيبہ کو کوئ احساس نہيں دلانا چاہتا تھا۔ "آج رات کوئ ريکارڈ بنانا ہے آپ نے ذائجسٹ پڑھنے کا" وہ جو گم صم سی پاس پڑا تيسرا ڈائجسٹ کھول نہی تھی خبيب کے چوٹ کرنے پر برا سا منہ بنا کر نہ گئ۔ "آپکو کيا ٹينشن ہے سو جائيں آپ مين کون سا بيٹھی آپکو کہانياں سنا رہی ہوں" "ڈائجسٹ ميں دھيان لگ جاۓ گا؟" خبيب نے اٹھ کر سائيڈ ٹيبل کے ليمس آن کئيۓ پھر لائٹ آف کرکے واپس بيڈ پر آکر اسے مخاطب کيا۔ جس کی نظريں ڈائجسٹ پر کسی غير مرئ نقطے کو ديکھ رہيں تھيں۔ "کيا مطلب۔۔" اس نے حيرت سے خبيب کو ديکھا۔ "کبھی کبھی دل کی بات مان لينے ميں کوئ حرج نہيں ہوتا۔۔زندگی پرسکون ہو جاتی ہے۔۔اور شايد خوبصورت بھی۔۔۔ہر ايک کی زندگی کا اپنا تجربہ ہوتا ہے۔۔دوسروں کی زندگی کے تجربات سے سبق ضرور حاصل کريں مگر ان کی وجہ سے اپنی زندگی کو خراب مت کريں۔۔ہو سکتا ہے آپکا تجربہ ان سے بہت بہتر ہو۔۔گڈ نائٹ مجھے عينک لگی وہيبہ بالکل اچھی نہيں لگے گی۔۔اپنی ان خوبصورت آنکھوں پر ظلم مت کريں۔" کہتے ساتھ ہی خبيب نے ششدر بيٹھی وہيبہ کو ديکھا جو اسے يک ٹک ديکھ رہی تھی۔ اسکے پاس آتے ہاتھ بڑھا کر ليمپ آف کيا۔ پيچھے ہو کر اسکی حيرت زدہ آنکھوں کو ديکھتے مسکرايا۔ "يقين کريں زندگی آپکو بہت سی خوشياں دينا چاہتی ہے ہاتھ بڑھا کر انہيں وصول کريں۔۔اس سے پہلے کہ کوئ اور ان پر اپنا حق جتا لے۔ " اسکے گالوں کو پيار سے انگليوں سے چھوتے اسکے دل نے بہت سی خواہشيں کيں تھيں۔ مگر خبيب نے اسے ڈپٹ ديا۔ آہستہ سے اپنی جگہ پر تکيہ درست کرکے منہ دوسری جانب کرکے ليٹ گيا۔
"اف يار کتنا لولی ہے کوئٹہ کا موسم۔۔۔۔اس قدر سنو پڑتی ہے" آج موسم نسبتا زيادہ ٹھنڈا تھا کيونکہ ہلکی ہلکی برفباری بھی ہوئ تھی جس کے بعد موسم کافی ٹھنڈا ہو گيا تھا۔ ربيعہ لان ميں پڑی برف کی تہہ کو ديکھ کر خوشی سے بولی۔
وہ لوگ لاہور کے رہنے والے تھے جہاں سرديوں ميں برف کا تصور ہی نہيں تھا۔ ايک دو مرتبہ وہ لوگ پروگرام بنا کر شمالی علاقہ جات گۓ تھے برفباری ديکھنے مگر اب اس دفعہ کوئٹہ آگۓ جہاں برف پڑتی تھی۔ اسی لئيۓ انکے لئيۓ بہت ايکسائيٹنگ جگہ تھی۔
"يار يہاں ہيوی سنوفال کب ہوگی" نيہا نے بھی پوچھا وہ لوگ اس وقت رہائشی حصے ميں کمروں کے آگے بنے چھوٹے سے برآمدے ميں موجود تھے اور مزے سے روئ کے گالوں کو ديکھ رہے تھے۔ صبح گيارہ بجے کا وقت تھا۔
"يار سنا ہے نتھيا گلی اور اس سے آگے زبردست سنو پڑی ہے۔۔۔کيوں نہ وہاں کا پلين بنائيں" سمارا بھابھی کے کہنے پر سب نے رضامندی ظاہر کی۔
"خبيب سے کہيں چھٹياں لے اور سب چلتے ہيں وہ تو اپنے ہنی مون پر بھی نہيں گيا" سمارا بھابھی کے کہنے پر وہيبہ کے چہرے پر خون سمٹ آيا۔
"ہاں يہ بيسٹ آئيڈيا ہے" سب نے ہاں ميں ہاں ملائ۔
وہاج نے اسی وقت خبيب کو فون کيا۔
کافی دير بحث چلتی رہی آخر وہ مان ہی گيا۔ چھٹيوں کے لئيۓ اپنے آفيسرز سے بات کی وہ بھی مان گۓ۔ کيونکہ اس نے شادی کے بعد کی چار چھٹياں کسنسل کروا دی تھيں۔ لہذا وہی چھٹياں اس کے پھر سے کام آگئيں۔
رات ميں جب وہ گھر آيا تب اسلام آباد کے ٹکٹس ليتا آيا۔
"يہ آپ سب کو ہوا کيا ايکدم صبح تو ميں سب کو صحيح چھوڑ کر گيا تھا۔" خبيب نے آتے ساتھ ہی سب کا ريکارڈ لگايا۔
"ايسی پلينگ ميری بيگم کے علاوہ کسی کی ہو نہيں سکتی" خبيب کی بات پر اس نے تيکھے چتون سے اسے ديکھا۔
"بدنام ہی کرنا مجھے ہر جگہ" اسکے جواب پر سب ہنس پڑے۔
"نہيں بھئ ميری ديوارانی نے ايسی کوئ غلطی نہيں کی يہ سب پليننگ ميری ہے۔۔خبردار جو اسے خوامخواہ کچھ کہا۔" سمارا بھابھی نے فورا اس کا ساتھ ديا۔
"ويسے بھی تم لوگ ہنی مون پر نہيں گۓ تو ہم نے سوچا تمہارا ہنی مون بھی ہوجاۓ گا" بھابھی نے شرارت سے کہا۔
"ايکسکيوزمی اپنے ہنی مون پر ميں اتنی پلٹون کو کس خوشی ميں لے کر جاؤں گا۔۔۔رنگ ميں بھنگ ڈالنے۔۔ اس پر تو ميں کسی کی مداخلت برداشت نہيں کروں گا۔۔صرف ميں اور ميری بيگم جائيں گے" خبيب کی بات پر جہاں وہيبہ کے چہرے کا رنگ سرخ ہوا تھا۔۔وہيں يہ سوچ کر ايک عجيب سا احساس بھی جاگا کہ وہ تو اپنی دوسری بيوی کی بات کر رہا ہے۔
"اوہ ہ ہ ہ، بھائ بڑے روينٹک نکلے" وہاج اور کاشف نے پھر مل کر اس کا خوب ريکارڈ لگايا۔
مگر وہيبہ کا دل اس سارے منظر سے يکدم اکتا گيا۔
وہ اٹھ کر پينکنگ کرنے کے بہانے اندر چلی گئ کيونکہ ان کی صبح جلدی کی فلائٹ تھی۔ آج وہ خبيب کے آنے سے بھی پہلے ليٹ کر سوتی بن گئ۔
مگر نجانے کہاں سے دو آنسو پلکوں پر آ کر ٹھہر گۓ۔ جو خبيب کے اندر آنے کے بعد اور بيڈ پر اسکی موجودگی محسوس کرنے کے پر پلکوں کی باڑھ توڑ کر باہر آگۓ۔
اگلے دن صبح اسلام آباد ائير پورٹ پر پہنچنے کے بعد خبيب نے پہلے سے ہی اپنے کچھ آفيسرز کو کہہ کر ہائس کا انتظام کروا ليا تھا۔ اس ميں بيٹھ کر وہ لوگ سيدھا پٹرياٹا کی جانب بڑھے۔ پورے راستے گانے گنگناتے گۓ۔ وہيبہ اور خبيب کو اسپيشل پروٹوکول ديا جا رہا تھا۔ لہذا انہيں اکٹھے بٹھاياگيا۔ وہ لوگ سب کی موجودگی کی وجہ سے کچھ نہيں بولے۔ ساری رات جاگنے کی وجہ سے اس وقت وہيبہ کو شديد نيند آ رہی تھی۔ کافی دير خود کو زبردستی جگانے کے باوجود کچھ ہی دير بعد اس کا سر نيند کی زيادتی کے باعث ڈھلک کر کھڑکی کے ساتھ لگا ہوا تھا۔ خبيب کا تو سارا وقت دھيان بھی اسی کی جانب تھا۔ جو بليک جينز اور ميرون اورکوٹ ميں اسکے دل کے تاروں کو چھيڑ چکی تھی۔ خبيب نے آہستہ سے اس کا سر سيدھا کرکے اپنے کندھے پر رکھ کر بازو اسکے کندھوں پر حمائل کيا۔ اس خيال ميں کتنی چاہت تھی کاش وہ اسے جان پاتی۔ خبيب نے سب کا دھيان ادھر ادھر ديکھ کر اسکے گھنے بالوں والے سر پر آہستہ سے اپنے لب رکھے۔ دل کيا اسکے سارے دکھ سب خدشے اس ايک پل ميں ختم کردے مگر وہ اس کا اعتماد خود پر پہلے بحال کرنا چاہتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ وہ اس رشتے کو اس انداز ميں سمجھے کہ خبيب کے بنا رہنا اور زندگی گزارنا اسے ناگزير لگنے لگے اور يہ تبھی ممکن تھا جب ہر لمحہ اسے خبيب کی اتنی عادت ہوجاتی کہ وہ بالآخر اسکی چاہت اور محبت ميں مبتلا ہو جاتی۔ مگر اس کے لئيۓ خبيب کو اپنی محبت کو ظاہر کرنے کے لئۓ کچھ صبر سے کام لينا تھا۔ اور وہ لے رہا تھا۔ ہر لمحہ ہر پل۔ کچھ دير بعد جيسے ہی انکی گاڑی ہوٹل رکی جہاں انہوں نے رہنا تھا۔ برف کے گالے آسمان سے اترتے ہوۓ نظر آ رہے تھے۔سب نے اترتے ہی جوش اور خوشی سے چيخ و پکار مچائ۔ وہيبہ کی آنکھ کھلی تو اپنا سر خبيب کے کندھے پر پايا۔ ايکدم پيچھے کو سرکی۔ "سب کی موجودگی کے باعث ايسے ڈرامے تو کرنے پڑ يں گے" اس نے آہستہ سے کہا تو وہ جو اپنی اتھل پتھل سانسوں کو ہموار کر رہی تھی۔ ايکدم خفيف سی ہو کر اترنے لگی۔ اترتے ساتھ ہی وہ سب لان کی جانب بڑھے جو برف سے ڈھکا ہوا تھا۔ خبيب اور وہاج بک کرواۓ ہوۓ کمروں ميں سامان رکھنے چلے گے۔ "اف کتنی خوبصورت برف ہے" وہيبہ نے آنکھيں بند کرتے چہرہ اوپر کرکے دونوں ہاتھ پھيلاتے اللہ کی اس خوبصورتی کو پوری طرح محسوس کيا اور لان ميں آتے خبيب کے موبائل کے کيمرے نے اس خوبصورت منظر کی چند يادگاريں خود ميں محفوظ کيں۔ وہ سب لڑکياں ابھی تصويريں کھينچنے ميں مگن تھيں کہ نيہا اور سمارا کے سروں پر برف کا گولہ پڑا۔ حيرت سے مڑيں تو ايک اور گزلہ وہاج نے انکی جانب اچھالا۔ "تم لوگ کيا صرف برف کو ديکھنے آئ ہو" وہاج نے انہيں جوش دلايا۔ "نہيں ديکھنے اور دکھانے آئ ہيں" سمارا نے کہتے ساتھ ہی ايک گولہ بنا کر وہاج پر پھينکا۔ اور سب شروع ہوگۓ۔ سب چونکہ راستہ بھر کچھ نہ کچھ کھاتے آۓ تھے لہذا اس وقت بھوک محسوس نہيں ہوئ بس ماحول سے لطف اٹھا رہے تھے۔ برف کے گولوں کا طوفان چل پڑا تھا۔ خبيب نے برف لے کر وہيبہ کے قريب آتے ہی تيزی سے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسکی آستين ميں ڈال دی۔ وہيبہ تيزی سے برف ہاتھ ميں لئيۓ خبيب کے پيچھے بھاگی کہ ايک بينچ کے قريب پھسلن سے پاؤں مڑا۔ اس سے پہلے کے وہ بينچ پر گرتی۔ اسکی جانب متوجہ خبيب نے تيزی سے ہاتھ بڑھا کر اسے اپنی جانب کھينچا۔ حواس بحال ہوتے ہی وہيبہ کو اپنے ہاتھ ميں پکڑی برف کا خيال آيا۔ اچانک پيچھے ہوتے برف خبيب کے منہ پر مل دی۔ وہ جو وہيبہ کے اتنے قريب ہونے کو محسوس کر رہاتھا۔ اس اچانک حملے کے لئيۓ تيار نہيں تھا۔ وہ کھلکھلاتی ہوئ پيچھے ہٹی۔ اور وہاں سے دوڑ لگا دی۔ کچھ دير يہ سلسلہ چلتا رہا پھر سردی کی شدت کے باعث سب اپنے کمروں ميں چلے گۓ۔ خبيب کو زکام لگ چکا تھا۔ چھينکوں پر چھينکيں مار رہا تھا۔ وہيبہ جو مزے سے ہينڈفری کانوں ميں لگاۓ ۔کارپٹ پر آتش دان کے سامنے بيٹھی گلاس وال سے باہر پڑتی برف کو ديکھ رہی تھی۔ خبيب کچھ دير ٹشو ڈھونڈتا رہا پھر يکدم نظر سامنے بيٹھی وہيبہ پر پڑی تو اسکے پاس بيٹھ کر اسکے اسکارف سے ناک رگڑنے لگا۔ گلے ميں کھچاؤ محسوس کرے جونہی اس نے اپنے پاس بيٹھے خبيب پر نظر گئ جو اسکے اسکارف سے ناک رگڑ رہا تھا۔ وہ اسکی اپنے پاس موجودگی سے بے خبر تھی۔ "گندےےےےےے" يکدم چلائ۔ "اس سے کيوں صاف کيا۔۔۔ميرا اسکارف" اس نے دہائ ديتے ساتھ ہی اسکارف گلے ميں سے نکال کر دور پھينکا۔ "تو زکام مجھے کس نے لگايا تھا۔ کس نے کہا تھا ميرے منہ پر برف مليں" خبيب نے سارا قصور اس کے کھاتے ميں ڈال ديا۔ "پھر بھی ميرا اتنا پيارا اسکارف تھا" وہ صدمے سے بولی۔ "ميں بھی تو پيارا شوہر ہوں" خبيب نے اسکی گود ميں سر رکھتے ہوۓ کہا۔ "کيا کر رہے ہيں" اس نے پيچھے ہونا چاہا مگر وہ پوری طرح ليٹ کر سر اسکی گود ميں رکھ چکا تھا۔ "بہت درد ہورہی ہے يار پليز دبا ديں" خبيب نے بے چارگی سے کہا۔ "اپنی دوسری بيگم سے خدمتيں کروائيں" اس نے اسے کندھے سے پيچھے ہٹانا چاہا۔ "وہ تو ابھی ميسر نہيں آپ ہيں اب کيا آپ اتنا سا بھی نہيں کرسکتيں" "جی نہيں۔۔۔ ميں لگتی ہی کيا ہوں آپکی" اس ن پھولے منہ سے کہا۔ "منکوحہ۔۔۔کيا اس نکاح کے ناطے بھی مجھے کچھ نہيں سمجتھيں جس کے باعث ہارون کی جگہ ميں آپکے پاس ہوں" وہيبہ لاجواب ہوگئ۔ "اچھا اوپر چليں يہاں سوگںۓ تو کيسے اٹھاؤں گی" "ليں اتنا ہلکا سا تو ہوں ميں" خبيب نے بيڈ پر ليٹتے ہوۓ کہا۔ "جی بالکل بازو آپکا تو بازو ہی اس قدر موٹا ہے" وہيبہ نے بھی اٹھ کر اسکے پاس بيٹھتے ہوۓ کہا۔ "آپ نے کب محسوس کيا۔ لورالئ کے اس گيسٹ روم ميں گزری رات ميں" خبيب نے مسکراتے ہوۓ جس بات کا حوالہ ديا وہ اسے شرمند کرگئ جب اندھيرے کے ڈر کی وجہ سے اس نے خبيب کا بازو پکڑا تھا۔ "اچھا اب فضول باتيں کرکے سر درد نہيں کرےگا" اس نے اپنی خقت مٹانی چاہی۔ "آپکی گود ميں سر رکھ سکتا ہوں" ابھی اس نے سر دبانا شروی کيا ہی تھا کہ خبيب نے پوچھا۔ "کيوں" وہيبہ کا دل تيزی سے دھڑکا "بيماری ميں يا تو ماں کے پاس سکون ملتا ہے يا بيوی کی گود ميں۔۔۔ابھی کچھ دير پہلے آپکی گود ميں سر رکھ کر بہت سکون ملا تھا۔ سوچا پوچھ لوں۔۔ليکن ہم ميں تو ايسا رشتہ ہی نہيں" خبيب نے سوال کرکے خود ہی جواب دے ديا۔ "رکھ ليں" نجانے کيا سوچ کر وہيبہ نے کہا۔ خبيب نے پہلے تو اسے بے يقين نظروں سے دیکھا پھر آہستہ سے اسکی گود ميں سر رکھ کر آنکھيں موند ليں۔۔۔ وہيبہ نے لرزتے ہاتھوں سے سر دبانا شروع کيا اور پھر وہ جلد ہی نيند کی واديوں ميں چلا گيا۔ مگر وہ رات وہيبہ پر بہت بھاری گزری۔ لمحہ بہ لمحہ وہ اسکے حواسوں پر چھا رہا تھا۔ اس نے آہستہ سے اسکا سر تکيے پر رکھا اور خود بھی ليٹ گئ۔ مگر نيند آنکھوں سے کوسوں دور تھی۔ الحھن تھی پريشانی تھی